15 Dec, 2017 | 26 Rabiul Awal, 1439 AH

taveez pehnna kaisa he?

تعویذ  پہننا کیسا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

قرآن کریم کی آیات، اللہ سبحانہ  وتعالیٰ اور منقول دعاؤں سے تعویذ بناکر پہننا شرعاً جائز  ہے،اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اس لیے کہ تعویذ بھی ایک  طریقہ علاج ہے جس طرح دوسری بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف طریقے ہیں۔  البتہ علاج کے اندر اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز اختیار نہ کی جائے جو شرعاً ناجائز اور ممنوع ہو۔

        تعویذ لٹکانے کا عمل متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین اور ان کے بعد آنے والے سلف  صالحین رحمہم اللہ سے ثابت ہے۔  چنانچہ حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت سعید بن مسیب، حضرت ابن سیرین ، حضرت ضحاک  رضی اللہ عنہم  جیسے جلیل القدر صحابہ وتابعین اور جمہور فقہاء کرام رحمھم اللہ کچھ شرائط کے ساتھ تعویذ کے جواز کے قائل ہیں۔

        بعض احادیث میں تعویذات کی ممانعت آئی ہے، مگر ان سے زمانہ جاہلیت کے وہ تعویذات مراد ، جن میں یا تو شرکیہ کلمات ہوتے تھے، یا جن کے بارے میں اہل جاہلیت کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ مؤثر بالذات ہیں، یعنی یہ خود نفع اور نقصان دیتے ہیں۔ اس طرح ہر قسم کے تعویذ ناجائز ہیں۔ احادیث مبارکہ میں  ایسے تعویذات  کو شرک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کے ساتھ زمانہ جاہلیت کا باطل (ناجائز ) عقیدہ  وابستہ ہے۔

        لیکن جو تعویذات آیات قرآنیہ ، منقول دعاؤں وغیرہ پر مشتمل  ہوں، اور ان کو مؤثر بالذات  نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ اعتقاد رکھاجائے کہ شفا مجھے اللہ تعالی نے دینےہے،  وہی مجھے شفادینے والا ہے، اور یہ تعویذ  اور کلام صرف اورصرف ایک سبب کا درجہ رکھتی ہے۔ تو  جس طرح دوا ایک سبب ہے، اور اس کا استعمال جائز ہے، اسی طرح  ان تعویذات کو لکھنا، گلے میں لٹکانا اور باندھنا بھی جائز ہے، اور جن احادیث میں تعویذات سے ممانعت آئی ہے، ان کا ان تعویذات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خلاصہ  یہ ہے کہ کچھ پڑھ کر دم کرنا یا گھول کر مریض کو پلانا، یا کاغذ پر لکھ گلے میں لٹکانا، یا بازو وغیرہ پر باندھنا درج ذیل  شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1- تعویذ، قرآنی آیات، احادیث مبارکہ  کی دعاؤں یا ایسے کلمات پر مشتمل ہوں جن کے معانی سمجھ میں آتے ہوں، اور ان کا مفہوم میں  شریعت کے مطابق ہو۔

2-  ان میں کسی قسم کاکوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو،  اور ایسے کلمات بھی نہ ہوں جن  میں شرک کا شبہ پیدا ہوسکتاہو۔

3-  یہ عقیدہ بھی  نہ ہو کہ یہ تعویذ ،یا کلام بذات خود مؤثرہے، بلکہ یہ عقیدہ ہو  کہ مؤثر بالذات ، اور شفا دینے والی ذات  ، صرف اللہ تعالی کی ہے اور یہ تعویذ دعا  یا  علاج کا ایک ذریعہ ہے۔

4-  جائز کام، اور نیک مقصد  کے لیے یہ تعویذ  استعمال کیا جارہاہو۔

لہذا جس تعویذ میں مذکورہ بالا شرائط پائی جائیں، جائز کام کے لیے ان کا بنانا، گلے میں لٹکانا اور بازووغیرہ پر باندھنا جائز ہے، اور یہی قول  صحیح ہے۔ اسی طرح جو نقوش واعداد ،آیات قرآنی  اور ماثور  دعاؤں کے ہوں، وہ چونکہ مباح ہیں، اس لیے ان کے ذریعہ علاج کرانا بھی درست ہے۔

فی صحيح مسلم :  باب الطب والمرض :

 عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت  كان إذا اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم رقاه جبريل قال باسم الله يبريك ومن كل داء يشفيك ومن شر حاسد إذا حسد وشر كل ذي عين.

وفی صحيح مسلم: باب رقية المريض بالمعوذات والنفث:

عن عائشة  أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرأ على نفسه بالمعوذات وينفث فلما اشتد وجعه كنت أقرأ عليه وأمسح عنه بيده رجاء بركته.  

وفی فتح الباري - ابن حجر (10/ 195)

وقد أجمع العلماء على جواز الرقي عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى واختلفوا في كونها شرطا والراجح أنه لا بد من اعتبار الشروط المذكورة.

وفی تفسير القرطبي (10/ 320)

 وقال أبو عمر: التميمة في كلام العرب القلادة، ومعناه عند أهل العلم ما علق في الأعناق من القلائد خشية العين أو غيرها من أنواع البلاء وكان المعنى في الحديث من يعلق خشية ما عسى «1» من تنزل أو لا تنزل قبل أن تنزل. فلا أتم الله عليه صحته وعافيته، ومن تعلق ودعة- وهي مثلها في المعنى- فلا ودع الله له، أي فلا بارك الله له ما هو فيه من العافية. والله أعلم. وهذا كله تحذير مما كان أهل الجاهلية يصنعونه من تعليق التمائم والقلائد، ويظنون أنها تقيهم وتصرف عنهم البلاء، وذلك لا يصرفه إلا الله عز وجل، وهو المعافي والمبتلي، لا شريك له. فنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم عما كانوا يصنعون من ذلك في جاهليتهم. وعن عائشة قالت: ما تعلق بعد نزول البلاء فليس من التمائم. وقد كره بعض أهل العلم تعليق التميمة على كل حال قبل نزول البلاء وبعده. والقول الأول أصح في الأثر والنظر إن شاء الله تعالى. وما روي عن ابن مسعود يجوز أن يريد بما كره تعليقه غير القرآن أشياء مأخوذة عن العراقيين والكهان، إذ الاستشفاء بالقرآن معلقا وغير معلق لا يكون شركا، وقوله عليه السلام:" من علق شيئا وكل إليه" فمن علق القرآن ينبغي أن يتولاه الله ولا يكله إلى غيره، لأنه تعالى هو المرغوب إليه والمتوكل عليه في الاستشفاء بالقرآن. وسيل ابن المسيب عن التعويذ أيعلق؟ قال: إذا كان في قصبة أو رقعة يحرز فلا بأس به. وهذا على أن المكتوب قرآن. وعن الضحاك أنه لم يكن يرى بأسا أن يعلق الرجل الشيء من كتاب الله إذا وضعه عند الجماع وعند الغائط. ورخص أبو جعفر محمد بن علي في التعويذ يعلق على الصبيان. وكان ابن سيرين لا يرى بأسا بالشيء من القرآن يعلقه الإنسان.

 واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۳؍ذی الحجہ؍۱۴۳۸ھ

                 ۱۵؍ستمبر؍۲۰۱۷ء