15 Dec, 2017 | 26 Rabiul Awal, 1439 AH

Assalamualikum warahmatullahi wa barakatuhu ji bazaar ki cheezen istamaal karte hue aksar shakk rehta hai pata nahin haraam hai halal hai, namazi ke hathon bani hui hai ya kisi kafir ke... Ab agar mein bazaar ki bani hui cheezon ko istemaal karna hi chor dun, jaie chips, ice creams, chocolates,etc to kya chorne ki ijazat hai.

بازار کی چیزیں استعمال کرتے ہوئے اکثر شک رہتا ہے کہ پتہ نہیں  حرام ہے یا حلال ہے؟ کافر کی ہاتھ کی بنی ہوئی ہے یا مسلمان کے ہاتھ سے؟ نمازی کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہے یا  بے نمازی کے ہاتھ سے؟

اگر بازر کی چیزیں کھانا چھوڑنے کی گنجائش ہے یا نہیں، جیسے چپس، آئس کریم، چاکلٹ وغیرہ وغیرہ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے میں اس کے اجزائے ترکیبی کا اعتبار ہوتا ہے،لہذا بازار کی اشیاء کو مطلقا حرام نہیں کہا جاسکتا۔ جس چاکلیٹ آئس کریم وغیرہ  کا سوال میں  ذکر ہے، اگر اس میں کوئی ناپاک ، یا حرام چیز نہیں ڈالی گئی، بلکہ اس کے اجزائے ترکیبی حلال  اور پاک ہیں، تو اس صورت میں  وہ چاکلیٹ وغیرہ حلال ہے اور اس کا کھانا بھی جائز ہے۔ البتہ مذکورہ چاکلیٹ آئس کریم وغیرہ  میں اگرکوئی حرام یا ناپاک چیز ڈالی گئی ہو، ( اور اس کی ماہیت بھی تبدیل نہ ہوئی ہو) تو اس صورت میں وہ حلال نہ ہوگی اور اس کا کھانا بھی جائز نہ ہوگا۔ لہذا جب تک تحقیق سے ثابت نہ ہوجائے کہ اس چیز میں حرام یا نجس ڈالی گئی ہے تب تک حرام نہیں کہہ سکتے اور دوسروں کو منع  بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں! اگر اپنا دل نہ مانے تو اپنی حد تک ا حتیاط کرنے میں حرج نہیں. اور اس میں ‘‘غلو’’ سے بھی بچنا چاہیے، ورنہ انسان وہم کا شکار ہوجاتا ہے،  اسی طرح بے نمازی  کی ہاتھ کی بنی ہوئی چیز بھی  نجس نہیں ہوتی، اور اس  کے کھانے میں کوئی کراہت نہیں  ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍ذی الحجہ؍۱۴۳۸ھ

                  ۱۸؍ستمبر؍۲۰۱۷ء