23 Oct, 2017 | 2 Safar, 1439 AH

Aksr log kahte hn safar k month bhari hota ha. Is month na shadyan karni chahye na safar karna chahye.na aik ghar se dosray ghr shift hona chahye. Is k ilawa sham ko asar k bad jharo laganay se bhi mana krte hn.is sb me sach kya ha.wham se bachne k lia kya wo kam jis se roktay hn karna chahye.ya dil me hi galat samaj k apni sahulat k hisab se kam kr ln..

1-  اکثر لوگ کہتے ہیں صفر کا مہینہ بھا ری ہوتا ہے ۔اس مہینے شادیاں  نہیں کرنی چاہیں ،نا سفر کرنا چاہیے ،نا ایک گھر سے  دوسرے گھر شفٹ ہونا چاہیے ۔

2- اس کے علاوہ شام کو عصر کے بعد جھاڑو لگانے سے بھی منع کرتے ہیں ۔ان سب میں سچ کیا ہے؟وہم سے بچنے کے لیے کیا وہ کام جن سے روکتے ہیں کرنا چاہیے،یا دل میں ہی غلط سمجھ کے اپنی سہولت کے حساب سے کام کر لیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

1- مذکورہ خیالات او رعقائد اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں  ، زمانۂ جاہلیت میں  (سلام کے آنے سے  پہلے) لوگ صفر  کے مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، نبی کریم ﷺ  نے ان خیالات کی سخت الفاظ میں  تردید فرمائی ہے ۔ حقیقیت یہ ہے کہ   وقت ، دن ، مہینہ یا تاریخ منحوس نہیں  ہوتے ،نحوست بندوں  کے اعمال وافعال  کی وجہ سے ہوتی ہے، جس وقت کو بندوں  نے عبادت میں  مشغول رکھا ،وہ وقت ان کے حق میں  مبارک ہوتا ہے اور جس وقت کو گناہ کے کاموں  میں  لگایا ہے وہ ان کے لئے منحوس ہے ۔ حقیقت میں  مبارک عبادات ہیں  او رمنحوس گناہ  ہیں  ۔  یہ  خیال کہ ماہِ صفر   کے اندر سفر کرنا یا کوئی جدید کاروبار کھولنا یا  اس مہینہ کے اندر ایک  گھر سے  دوسرے گھر  منتقل ہونامنع ہے یا  نقصان کا باعث ہے، بالکل بے اصل اور غلط ہے۔ شریعت مقدسہ میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ الغرض صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا جاہلیت کی رسم ہے، مسلمان تو اس کو “صفر المظفر” اور “صفر الخیر” سمجھتے ہیں، یعنی خیر اور کامیابی کا مہینہ۔

2- عصر کے بعد  ،یا  رات کو جھاڑو دینے کے معیوب اور  منحوس سمجھنا بالکل غلط بات ہے۔ لہذا عصر کے بعد جھاڑو  دے سکتے ہیں  (کذا  فی آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۱/ ۳۶۹ – ۳۷۳)

واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

                 ۲۵؍ستمبر؍۲۰۱۷ء