23 Oct, 2017 | 2 Safar, 1439 AH

Islam mein Ghusl ka sahi tareeqa kiya h

اسلام میں غسل کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل کرنے والاسب سے پہلے گٹوں تک اپنے دونوں ہاتھ دھو لے، اس کے بعد استنجا کرے ، اس کے بعد جسم کے کسی حصہ پراگر  نجاست لگی ہوئی ہو تو اس کو دھوکر ختم کردے، پھر اس کے بعد  سنت کے مطابق مکمل وضو کرے۔ وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، اس کے بعد تین مرتبہ دائیں کندھے پر پانی ڈالے ،اس کے بعد بائیں کندھے پر تین مرتبہ اس طرح  پانی ڈالے کہ سارے بدن پر پانی بہہ جائے۔

الدر المختار (1/ 156)

( وسننه ) ( البداءة بغسل يديه وفرجه ) ( وخبث بدنه إن كان ) عليه خبث لئلا يشيع ( ثم توضأ ) أطلقه فانصرف إلى الكامل( ثم يفيض الماء ) على كل بدنه ثلاثا مستوعبا من الماء المعهود في الشرع للوضوء والغسل ( بادئا بمنكبه الأيمن ثم الأيسر ثم برأسه ثم ) على ( بقية بدنه مع دلكه ) ندبا وقيل يثني بالرأس وقيل يبدأ بالرأس وهو الأصح( ثم الأيسر ) أي ثلاثا أيضا وقوله ثم برأسه أي يغسله مع بقية البدن ثلاثا أيضا كما في الحلية وغيرها خلافا لما يفيده كلام المتن من غسله الرأس وحده .

واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

                    ۱۵؍ستمبر؍۲۰۱۷ء